ابنا: سیاسی تجزیہ نگار عادل ای شامو نے پریس ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بغداد میں امریکی سفارت خانہ اپنے سترہ ہزار ملازمین کے ساتھ عراق کے دارالحکومت کے اندر ایک شہر میں تبدیل ہو گيا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سفارت خانے میں پچاس ہوائی جہازوں اور بہت سے ہیلی کاپٹروں کی موجودگی عراق میں امریکی موجودگی کی غاصبانہ ماہیت کو ظاہر کرتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے دو ہزار تین میں عراق میں مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے بہانے اس پر حملہ کیا تھا لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد انکشاف ہو گيا کہ نہ صرف عراق میں مہلک ہتھیار موجود نہیں تھے بلکہ امریکہ اور برطانیہ کو فوجی حملے سے پہلے اس بات کا علم بھی تھا کہ عراق میں مہلک ہتھیار موجود نہیں ہیں۔
دیگر ملکوں کے بارے میں بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے دعوے جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔
برطانیہ کے ایک معتبر سروے ادارے کے جائزے کے مطابق عراق پر قبضے کے نتیجے میں اب تک دس لاکھ سے زائد عراقی مارے جا چکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169